+923478228188
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

Masood Alam Sheikh

Advocate

My Blog

Dignity Of Flags

Posted by masoodalamsheikh on October 8, 2019 at 3:15 AM

میں چودہ اگست کو شام کے وقت اپنے گھر کی چھت پر اپنے کچھ فیملی ممبرز کے ساتھ ٹہل رہا تھا. گھر کے سامنے ہی ایک نجی سکول ہے اور اس کے مالکان نے بچوں کی سہولت کے لیے ایک کھیل کا میدان بنا رکھا ہے جس میں شام کے وقت کچھ بچے کھیل کود کر رہے تھے. کچھ نے پاکستان کے پرچم سے مشابہت رکھنے والی پٹیا‌ں سر پر باندھ رکھی تھیں اور کچھ اپنی سائیکل اور موٹر سائیکل پہ پرچم لگا رہے تھے. اس دوران میری نظر پاکستان کی اس جھنڈی پر پڑی جو کہ اپنی لڑی سے ٹوٹ چکی تھی اور میدان میں نیچے پڑی تھی میں اس انتظار میں کھڑا ہو کے دیکھنے لگا کہ اتنے سارے بچوں میں کس کی ایسی تربیت یا شعور ہو گا کہ اس جھنڈی کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو اٹھا لے گا.

 

کافی وقت گزر گیا ہر کوئی اس کو ایک نظر دیکھ کر واپس کھیل کود میں مشغول ہو جاتا. اتنے میں ایک بچہ اس کی طرف بڑھا اور اس کو اٹھایا تو میں نے اور میرے ساتھ کھڑے فیملی ممبرز نے کہا کہ آخر اس بچے نے اٹھا ہی لیا اور سب کی نظر میں وہی بچہ اس مقام کا حقدار ٹھرا جس کا سوچا گیا تھا. یہ الفاظ کہے ہی تھے کہ اس بچے نے جھنڈی واپس نیچے پھینک دی اور وہ مقام جو صرف ہمارے دلوں میں پایا تھا واپس کھو دیا اور واپس تلاش شروع ہوئی. کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک اور بچہ کھیلتا ہوا اس کے پاس جا پہنچا اور اسے اٹھایا اور ٹھیک پہلے بچے کی طرح واپس پھینک دیا اور ہمارا ردعمل پہلے جسا رہا.

 

پھر ایک بچہ جو میرے اپنے روزمرہ کے اندازے کے مطابق نہایت شرارتی طبیعت کا مالک تھا. اس طرف بڑھا اور اس نے اس جھنڈی کو اٹھایا اورہاتھ میں تھامے ہوئے ہی کھیل کود میں مصروف ہو گیا اور ساتھ کھڑے فیملی ممبرز نے اسے سراہا کہ یہی اچھی تربیت کا مالک بچہ قرار پایا اور میں بھی حیران ہوا اور اس بچے کو غور سے کھیل کود کرتے دیکھنے لگا اور میں نے اپنے روزمرہ کے اندازے کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی تمام فیملی ممبران سے کہا کہ اس بچے کا یہ جھنڈی اٹھانا صرف اتفاق ہے یہ بچہ اس جھنڈی کے ساتھ کچھ ایسا کر کے دکھائے گا جو آپ نے سوچا نہ ہو گا. کچھ وقت گزرا اور وہ بچہ اس جھنڈی کو تھامے ہوئے ہی رہا اور باقی ممبران کی آنکھوں سے تنقید نظر آنے لگی. اچانک اس بچے کو کھیلتے ہوئے اس کے پاؤں کی چپل میں کچھ مٹی اور پانی داخل ہوئے جس سے اس کی چپل اور پاؤں گندے ہو گئے تو اس بچے نے جھک کر اسی جھنڈی سے اپنے پاؤں اور چپل کو صاف کیا اور اس جھنڈی کو ہمارے دلوں میں پائے ہوئے مقام کے ساتھ ایک طرف پھینکا اور میری پیش گوئی کو سچ ثابت کرتے ہوئے واپس کھیل میں مشغول ہو گیا.

 

تمام فیملی ممبر حیران ہو گئے اور قدر غصہ بھی اور مجھ سے اسرار کیا کہ کسی بچے کوکہ کر اس جھنڈی کو اٹھوایا جائے اور مجھے ایسا کرنا پڑا. موجودہ نسل کا پاکستانی پرچم سے اظہار دیکھ کر شدید دکھ اور حیرت ہوئی کہ یہ وہی پرچم ہے جس کی خاطر لازوال قربانیاں دی گئیں اور آج بھی دی جا رہی ہیں. پرچم سے محبت کا احساس خود دل میں اُجاگر ہونا چاہیے پر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے اس لیے دور حاضر میں والدین اور اساتذہ جب بچوں کو پاکستانی پرچم لے کر دیں تو اس پرچم کو کپڑے کا وہ ٹکڑا سمجھ کر اس کی قدر و منزلت بھی سمجھائیں جس کی خاطر ہمارے آبا و اجداد نے قربانیاں دیں اور دی جا رہی ہیں.

بقلم خود:مسعود عالم شیخ.

Categories: None

Post a Comment

Oops!

Oops, you forgot something.

Oops!

The words you entered did not match the given text. Please try again.

Already a member? Sign In

0 Comments